ڈونالڈ ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں قدم رکھتے ہی یہاں کافی ہلچل دیکھی جا رہی ہے اور ماحول بھی کافی گرم ہو چکا ہے۔ کچھ دنوں قبل امریکی صدر ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان بھی تیکھی نوک جھونک ہوئی تھی جو ابھی تک موضوع بحث ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ یہاں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران بھی پیش آنے کی خبر ہے جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ارب پتی صلاح کار ایلون مسک کے درمیان تیکھی نوک جھونک ہوئی۔ دونوں شخصیتوں کے درمیان تکرار اس قدر بڑھ گئی تھی کہ وہاں موجود ٹرمپ کو خود بیچ بچاؤ کرنی پڑی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ کشیدگی کئی ہفتوں سے بنی ہوئی تھی لیکن اس نے اس وقت دھماکہ خیز شکل اختیار کر لی جب صدر ٹرمپ کی موجودگی میں دونوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ دراصل مسک حکومت کے خرچوں میں بھاری کٹوتی کے مضبوط حامی رہے ہیں اور انہوں نے روبیو پر ان کے محکمہ میں وافر چھٹنی نہیں کرنے کا الزام لگایا۔
مسک نے طنز کرتے ہوئے کہا، "آپ نے کسی کو بھی نہیں نکالا۔" مسک نے وزارت خارجہ کو 'غیر ضروری طور سے بڑا' قرار دیا۔ اس پر روبیو نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے محکمہ سے 1500 ملازمین نے پہلے ہی رضاکارانہ سبکدوشی (بائیکاٹ) لے لی ہے۔ انہوں نے طنزیہ لہجے میں مسک سے سوال کیا کہ کیا وہ ان لوگوں کو پھر سے نوکری پر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں دکھاوے کے لیے نکالا جا سکے۔ لیکن مسک اس صفائی سے مطمئن نظر نہیں آئے۔
رپورٹ کے مطابق بحث کافی دیر تک چلتی رہی، جس کے بعد ٹرمپ نے مداخلت کی۔ ٹرمپ نے روبیو کا بچاؤ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'شاندار کام' کر رہے ہیں اور ان کے پاس بہت ساری ذمہ داریاں ہیں۔ شاید یہ ٹرمپ کا اشارہ تھا کہ مسک کی انتہائی جارحانہ پالیسیوں پر اب لگام لگائی جا سکتی ہے۔ دوسری طرف مسک نے روبیو پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 'ٹی وی پر اچھے ہیں'۔ مسک کا مطلب تھا ان کی صلاحیت صرف دکھاوے تک محدود ہے۔
حالانکہ ٹرمپ نے جمعہ کو اوول آفس میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں اس واقعہ کے سلسلے میں خبروں کو خارج کرتے ہوئے کہا، "کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا، میں وہاں تھا۔ آپ بس شرارت کر رہے ہیں۔ ایلون اور مارکو بہت اچھے سے ملتے ہیں اور دونوں شاندار کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے آگے کہا، "مارکو نے وزیر خارجہ کے طور پر غیر معمولی کام کیا ہے اور ایلون مسک ایک انوکھا شخص ہے جنہوں نے بہترین تعاون دیا ہے۔"