نئی دہلی،یکم مارچ (یو این آئی)سپریم کورٹ نے آج اترپردیش حکومت کوہدایت دی کہ وہ ان مالک مکان کو فی کس 10 لاکھ روپے کاہرجانہ ادا کرے جن کے مکانات پر غیر قانونی طور پر بلڈوزر چلادیا گیا ہے۔
عدالت عالیہ نے انہدامی کارروائی کو غیر قانونی اور غیر دستوری قرار دیا اور کہا کہ ریاستی حکومت کی اس کارروائی نے ہمارے شعور کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ۔
عدالت کی دورکنی بنچ جسٹس اے ایس اوکا اور جسٹس اجل بھویان نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ریاستی حکومت نے قانون کی پاسداری نہیں کی اوربلا نوٹس قانون کو بالائے طاق رکھ کر مکانات کو مسمار کردیا۔
وکیل ذوالفقار حیدر اور پروفیسر علی احمد کے علاوہ کئی متاثرہ افراد نے اس سلسلے میں عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں کہا گیا کہ میونسپل کارپوریشن نے یکم مارچ، 2001کونوٹس جاری کیا جو انھیں 6مارچ کوموصول ہوااور 24گھنٹے کے اندربلڈوزر کا استعمال کرکے ان کے گھروں کو منہدم کردیاگیا۔
درخواست دہندگان نے کہاکہ ریاستی حکومتوں نے انھیں اس نوٹس کے خلاف اپنی اپیل دائر کرنے کے لئے موقع ہی فراہم نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دستور کی پاسداری کرنی چاہئے۔
اس سے قبل متاثرہ افراد نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی لیکن اسے خارج کردیا گیا تھا۔ گھروں کے انہدام کانوٹس سنیچرشام کو دیا گیا اور اتوار صبح سویرے ہی ان کے گھروں پر بلڈوزر چلاکر زمین بوس کردیا گیا۔