نئی دہلی، 02 اپریل (یو این آئی) اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی کے درمیان وقف (ترمیمی) بل۔ 2025 بحث کے لیے آج لوک سبھا میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل خالصتاً جائیداد کے انتظام کا معاملہ ہے اور اس سے کسی بھی مذہب کے کام میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی ہے۔
مسٹر رجیجو نے کہا "حکومت کسی مذہبی کام میں مداخلت نہیں کر رہی ہے... یہ مندر یا مسجد کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ خالصتاً جائیداد کے انتظام کا معاملہ ہے۔" انہوں نے کہا کہ متروکہ وقف املاک کا انتظام متولی کرتے ہیں اور یہ بل اسی انتظام سے متعلق ہے۔‘‘
پارلیمانی امور کے وزیر نے اس سلسلے میں کیرالہ اور الہ آباد ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے تین فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تینوں فیصلوں میں عدالتوں نے واضح کیا ہے کہ مسلم وقف یا ہندو مندروں کی جائیدادوں کے انتظام کا کام فطری طور پر سیکولر ہے۔
اپوزیشن اراکین کی طرف سے رکاوٹوں کے درمیان انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل کے بارے میں، 'آپ یہ دلیل دینا بند کردیں کہ مسلمانوں کی (جائیداد) کے معاملے میں غیر مسلموں کو کیوں شامل کیا جا رہا ہے۔'
اپوزیشن بالخصوص کانگریس پر بے معنی ووٹ بینک کی سیاست میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ 2014 کے انتخابات سے عین قبل اس وقت کی کانگریس کی قیادت والی متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) حکومت نے دہلی میں شہری ترقی کی وزارت کی 123 جائیدادوں کو دہلی وقف بورڈ کو منتقل کیا تھا۔
مسٹر رجیجو نے کہا ’’آپ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، آپ الیکشن ہار گئے… پھر آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اس بل پر بحث کرنی چاہئے اور اس کے حوالے سے کوئی ابہام پیدا نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ بل کسی کے خلاف نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کے مفاد میں ہے اور تمام مسلمان چاہتے ہیں کہ وقف املاک کا مناسب طریقے سے انتظام کیا جائے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے اس بل پر ملک بھر کے تمام طبقوں کے لوگوں سے وسیع مذاکرات کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی تھی اور اسی بنیاد پر یہ بل منظور کرایا جا رہا ہے۔